زیر پا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - پاؤں کے نیچے، قدموں کے نیچے، مراد : محکوم۔  وہ قدم اٹھے تو بیک قدم ہمہ کائنات بھی زیرپا یہ بلندیاں کوئی چھو سکا نہیں، ان کے بعد کوئی نہیں      ( ١٩٨٤ء، ذکر خیرالانام، ٧٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ صفت'زیر' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگا کر فارسی مصدر 'پائیدن' سے صیغۂ امر 'پا' لگانے سے مرکب اضافی 'زیرپا' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔